📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل (كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: نماز جنازہ کی تکبیرات کا بیان۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 1022 Jami at-Tirmidhi 1022
کتاب #11: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
37: باب مَا جَاءَ فِي التَّكْبِيرِ عَلَى الْجَنَازَةِ
باب: نماز جنازہ کی تکبیرات کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى النَّجَاشِيِّ فَكَبَّرَ أَرْبَعًا ". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ أَبِي أَوْفَى، وَجَابِرٍ، وَيَزِيدَ بْنِ ثَابِتٍ، وَأَنَسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَيَزِيدُ بْنُ ثَابِتٍ هُوَ أَخُو زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَهُوَ أَكْبَرُ مِنْهُ شَهِدَ بَدْرًا، وَزَيْدٌ لَمْ يَشْهَدْ بَدْرًا. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، يَرَوْنَ التَّكْبِيرَ عَلَى الْجَنَازَةِ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ، وَهُوَ قَوْلُ: سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَابْنِ الْمُبَارَكِ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھی تو آپ نے چار تکبیریں کہیں ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابن عباس ، ابن ابی اوفی ، جابر ، یزید بن ثابت اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ¤ ۳- یزید بن ثابت : زید بن ثابت کے بھائی ہیں ۔ یہ ان سے بڑے ہیں ۔ یہ بدر میں شریک تھے اور زید بدر میں شریک نہیں تھے ، ¤ ۴- صحابہ کرام میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۔ ان لوگوں کی رائے ہے کہ نماز جنازہ میں چار تکبیریں ہیں ۔ سفیان ثوری ، مالک بن انس ، ابن مبارک ، شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1022]
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (1534)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 54 (1318)، سنن النسائی/الجنائز 72 (1974)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 33 (1534) (تحفة الأشراف: 13267) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الجنائز 4 (1245)، و64 (1333)، والمناقب 38 (3880، 3881)، صحیح مسلم/الجنائز 22 (951)، سنن ابی داود/ الجنائز 62 (3204)، سنن النسائی/الجنائز 72 (1973)، و76 (1982)، موطا امام مالک/الجنائز 5 (14)، مسند احمد (2/289، 438، 529) من غیر ہذا الوجہ۔
جامع الترمذي • حدیث #1022
1020 1021 1022 1023 1024

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#1023 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَن...
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ زید بن ارقم ہمارے جنازوں پر چار تکبیریں کہتے تھے ۔ انہوں نے ایک ...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ