جامع الترمذي حدیث نمبر: 102
Jami at-Tirmidhi 102
کتاب #1: کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق هُوَ الْقُرَشِيُّ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقَالَ: " السُّنَّةُ يَا ابْنَ أَخِي " , قَالَ: وَسَأَلْتُهُ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْعِمَامَةِ , فَقَالَ: " أَمِسَّ الشَّعَرَ الْمَاءَ ".
ابوعبیدہ بن محمد بن عمار بن یاسر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے دونوں موزوں پر مسح کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : میرے بھتیجے ! ( یہ ) سنت ہے ۔ وہ کہتے ہیں اور میں نے عمامہ پر مسح کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : بالوں کو چھوؤ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 102]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی: پانی سے بالوں کو مس کرو، یعنی: عمامہ پر مسح نہ کرو۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 3165) (صحیح الإسناد)