سنن النسائي حدیث نمبر: 705
Sunan an-Nasa'i 705
کتاب #11: کتاب: مساجد کے فضائل و مسائل
13: بَابُ : النِّهْىِ عَنِ اتِّخَاذِ الْقُبُورِ، مَسَاجِدَ
باب: قبروں کو مساجد بنانے کی ممانعت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ، وَأُمَّ سَلَمَةَ ذَكَرَتَا كَنِيسَةً رَأَتَاهَا بِالْحَبَشَةِ فِيهَا تَصَاوِيرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أُولَئِكَ إِذَا كَانَ فِيهِمُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَمَاتَ، بَنَوْا عَلَى قَبْرِهِ مَسْجِدًا، وَصَوَّرُوا تِيكِ الصُّوَرَ، أُولَئِكَ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام المؤمنین ام حبیبہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہم دونوں نے ایک کنیسہ ( گرجا گھر ) کا ذکر کیا جسے ان دونوں نے حبشہ میں دیکھا تھا ، اس میں تصویریں تھیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ لوگ ایسے تھے کہ جب ان میں کا کوئی صالح آدمی مرتا تو یہ اس کی قبر کو سجدہ گاہ بنا لیتے ، اور اس کی مورتیاں بنا کر رکھ لیتے ، یہ لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین مخلوق ہوں گے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 705]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصلاة 48 (427)، 54 (434)، الجنائز 70 (1341)، مناقب الأنصار 37 (3873)، صحیح مسلم/المساجد 3 (528)، (تحفة الأشراف: 17306)، مسند احمد 6/51 (صحیح)