سنن النسائي حدیث نمبر: 600
Sunan an-Nasa'i 600
کتاب #9: کتاب: اوقات نماز کے احکام و مسائل
46: بَابُ : الْحَالِ الَّتِي يُجْمَعُ فِيهَا بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ
باب: جمع بین الصلاتین کے احوال و ظروف کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قال: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قال: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ أَوْ حَزَبَهُ أَمْرٌ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب چلنے کی جلدی ہوتی یا کوئی معاملہ درپیش ہوتا ، تو آپ مغرب اور عشاء کو جمع کر کے پڑھتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 600]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد لكن قوله أو حزبه أمر شاذ لعدم وروده في سائر الطرق عن نافع وغيره ويمكن أن يكون محرفا ففي مصنف عبدالرزاق / بإسناده هذا أو أجد به المسير والله أعلم
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح يه حديث غريب هے
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 8505)، مسند احمد 2/80 (صحیح الإسناد) (لیکن ’’أوحز بہ أمر‘‘ کا جملہ شاذ ہے کیونکہ نافع کے طریق سے مروی کسی بھی روایت میں یہ موجود نہیں ہے، نیز اس کے محرف ہونے کا بھی امکان ہے، اور مصنف عبدالرزاق (2/ 547) کی سند سے ان الفاظ کے ساتھ مذکور ہے، ’’أو أجد بہ المسیر‘‘)