سنن النسائي حدیث نمبر: 589
Sunan an-Nasa'i 589
کتاب #9: کتاب: اوقات نماز کے احکام و مسائل
43: بَابُ : بَيَانِ ذَلِكَ
باب: جمع بین الصلاتین کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ قَارَوَنْدَا، قال: سَأَلْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ صَلَاةِ أَبِيهِ فِي السَّفَرِ وَسَأَلْنَاهُ: هَلْ كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ شَيْءٍ مِنْ صَلَاتِهِ فِي سَفَرِهِ؟ فَذَكَرَ أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ أَبِي عُبَيْدٍ كَانَتْ تَحْتَهُ، فَكَتَبَتْ إِلَيْهِ وَهُوَ فِي زَرَّاعَةٍ لَهُ: أَنِّي فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنْ أَيَّامِ الدُّنْيَا وَأَوَّلِ يَوْمٍ مِنَ الْآخِرَةِ فَرَكِبَ، فَأَسْرَعَ السَّيْرَ إِلَيْهَا حَتَّى إِذَا حَانَتْ صَلَاةُ الظُّهْرِ، قال لَهُ الْمُؤَذِّنُ: الصَّلَاةَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَلَمْ يَلْتَفِتْ حَتَّى إِذَا كَانَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ نَزَلَ، فَقَالَ: أَقِمْ، فَإِذَا سَلَّمْتُ فَأَقِمْ فَصَلَّى ثُمَّ رَكِبَ حَتَّى إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ، قال لَهُ الْمُؤَذِّنُ: الصَّلَاةَ، فَقَالَ: كَفِعْلِكَ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، ثُمَّ سَارَ حَتَّى إِذَا اشْتَبَكَتِ النُّجُومُ نَزَلَ، ثُمّ قال لِلْمُؤَذِّنِ: أَقِمْ، فَإِذَا سَلَّمْتُ فَأَقِمْ فَصَلَّى، ثُمَّ انْصَرَفَ فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْأَمْرُ الَّذِي يَخَافُ فَوْتَهُ فَلْيُصَلِّ هَذِهِ الصَّلَاةَ".
کثیر بن قاروندا کہتے ہیں کہ میں نے سالم بن عبداللہ سے سفر میں ان کے والد ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم ) کی نماز کے بارے میں پوچھا ، نیز ہم نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ سفر کے دوران کسی نماز کو جمع کرتے تھے ؟ تو انہوں نے ذکر کیا کہ صفیہ بنت ابی عبید ( جو ان کے عقد میں تھیں ) نے انہیں لکھا ، اور وہ اپنے ایک کھیت میں تھے کہ میرا دنیا کا آخری دن اور آخرت کا پہلا دن ہے ( یعنی قریب المرگ ہوں آپ تشریف لائیے ) تو ابن عمر رضی اللہ عنہم سوار ہوئے ، اور ان تک پہنچنے کے لیے انہوں نے بڑی تیزی دکھائی یہاں تک کہ جب ظہر کا وقت ہوا تو مؤذن نے ان سے کہا : ابوعبدالرحمٰن ! نماز پڑھ لیجئیے ، لیکن انہوں نے اس کی بات کی طرف کوئی توجہ نہیں کی یہاں تک کہ جب دونوں نمازوں کا درمیانی وقت ہو گیا ، تو سواری سے اترے اور بولے : تکبیر کہو ، اور جب میں سلام پھیر لوں تو ( پھر ) تکبیر کہو ، ۲؎ چنانچہ انہوں نے نماز پڑھی ، پھر سوار ہوئے یہاں تک کہ جب سورج ڈوب گیا تو ان سے مؤذن نے کہا : نماز پڑھ لیجئیے ، انہوں نے کہا : جیسے ظہر اور عصر میں کیا گیا ویسے ہی کرو ، پھر چل پڑے یہاں تک کہ جب ستارے گھنے ہو گئے ، تو سواری سے اترے ، پھر مؤذن سے کہا : تکبیر کہو ، اور جب میں سلام پھیر لوں تو پھر تکبیر کہو ، تو انہوں نے نماز پڑھی ، پھر پلٹے اور ہماری طرف متوجہ ہوئے ، اور بولے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” جب تم میں سے کسی کو ایسا معاملہ پیش آ جائے جس کے فوت ہو جانے کا اندیشہ ہو تو وہ اسی طرح ( جمع کر کے ) نماز پڑھے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 589]
💡 وضاحت:
۲؎: یعنی تھوڑا سا رک کر کے جیسا کہ صحیح بخاری میں «فلما يلبث حتى يقيم العشاء» کے الفاظ وارد ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، كثير بن قاروندا مجهول الحال. والحديث الآتي (596) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 324
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 6795)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تقصیر الصلاة 6 (1091)، العمرة 20 (1805)، الجھاد 136 (3000)، سنن ابی داود/الصلاة 274 (1207)، سنن الترمذی/الصلاة 277 (555)، مسند احمد 2/51، ویأتي عند المؤلف برقم: (598) (حسن) (متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت حسن ہے، ورنہ اس کے راوی ”کثیر بن قاروندا‘‘ لین الحدیث ہیں)