سنن النسائي حدیث نمبر: 588
Sunan an-Nasa'i 588
کتاب #9: کتاب: اوقات نماز کے احکام و مسائل
42: بَابُ : الْوَقْتِ الَّذِي يَجْمَعُ فِيهِ الْمُسَافِرُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ
باب: مسافر کس وقت ظہر اور عصر کو جمع کرے؟
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قال: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ تَبُوكَ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، فَأَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، ثُمَّ دَخَلَ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ".
ابوالطفیل عامر بن واثلۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک کے سال نکلے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کی نمازوں کو جمع کر کے پڑھتے رہے ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز کو مؤخر کیا ، پھر نکلے اور ظہر اور عصر کو ایک ساتھ ادا کیا ، پھر اندر داخل ہوئے ، پھر نکلے تو مغرب اور عشاء ایک ساتھ پڑھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 588]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المسافرین 6 (706)، الفضائل 3 (706) مختصراً، سنن ابی داود/الصلاة 274 (1206، 1208)، سنن ابن ماجہ/إقامة 74 (1070) مختصراً، موطا امام مالک/السفر 1 (2)، (تحفة الأشراف: 11320)، مسند احمد 5/228، 230، 233، 236، 237، 238، سنن الدارمی/الصلاة 182 (1556)، (صحیح)