سنن النسائي حدیث نمبر: 5760
Sunan an-Nasa'i 5760
کتاب #57: کتاب: مشروبات (پینے والی چیزوں) کے احکام و مسائل
58: بَابُ : ذِكْرِ الأَشْرِبَةِ الْمُبَاحَةِ
باب: مباح اور جائز مشروب کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ , عَنْ ابْنِ شُبْرُمَةَ , قَالَ: قَالَ طَلْحَةُ لِأَهْلِ الْكُوفَةِ: " فِي النَّبِيذِ فِتْنَةٌ يَرْبُو فِيهَا الصَّغِيرُ , وَيَهْرَمُ فِيهَا الْكَبِيرُ" , قَالَ: وَكَانَ إِذَا كَانَ فِيهِمْ عُرْسٌ , كَانَ طَلْحَةُ، وَزُبَيْر يَسْقِيَانِ اللَّبَنَ وَالْعَسَلَ , فَقِيلَ لِطَلْحَةَ: أَلَا تَسْقِيهِمُ النَّبِيذَ؟ قَالَ: " إِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَسْكَرَ مُسْلِمٍ فِي سَبَبِي".
ابن شبرمہ کہتے ہیں کہ طلحہ رضی اللہ عنہ نے کوفہ والوں سے کہا : نبیذ میں فتنہ ہے اس میں چھوٹا بڑا ہو جاتا ہے اور بڑا بوڑھا ہو جاتا ہے ، وہ ( ابن شبرمہ ) کہتے ہیں : اور جب کسی شادی کا ولیمہ ہوتا تو طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما دودھ اور شہد پلاتے ۔ طلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا : آپ نبیذ کیوں نہیں پلاتے ؟ وہ بولے : مجھے ناپسند ہے کہ میری وجہ سے کسی مسلمان کو نشہ آئے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5760]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18849) (حسن الإسناد)