سنن النسائي حدیث نمبر: 5740
Sunan an-Nasa'i 5740
کتاب #57: کتاب: مشروبات (پینے والی چیزوں) کے احکام و مسائل
56: بَابُ : ذِكْرِ مَا يَجُوزُ شُرْبُهُ مِنَ الأَنْبِذَةِ وَمَا لاَ يَجُوزُ
باب: کون سی نبیذ پینی جائز ہے اور کون سی ناجائز۔
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَرَّانِيُّ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُطِيعٌ , عَنْ أَبِي عُثْمَانَ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: " كَانَ يُنْبَذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَشْرَبُهُ مِنَ الْغَدِ وَمِنْ بَعْدِ الْغَدِ , فَإِذَا كَانَ مَسَاءُ الثَّالِثَةِ , فَإِنْ بَقِيَ فِي الْإِنَاءِ شَيْءٌ لَمْ يَشْرَبُوهُ أُهَرِيقَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نبیذ تیار کی جاتی تھی ، آپ اسے دوسرے دن اور تیسرے دن پیتے ۱؎ ، جب تیسرے دن کی شام ہوتی اور اگر اس میں سے کچھ برتن میں بچ گئی ہوتی تو اسے نہیں پیتے بلکہ بہا دیتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5740]
💡 وضاحت:
۱؎: صحیح مسلم میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہم نبیذ تیار کرتے جسے آپ ایک دن اور رات تک پیتے، تو یہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اس حدیث کے معارض نہیں ہے کیونکہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں اس سے زیادہ مدت تک پینے کی نفی نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الأشربة 9 (2004)، سنن ابی داود/الأشربة 10 (3713)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 12 (3399)، (تحفة الأشراف: 11062)، مسند احمد (1/232، 240، 287) (صحیح)