سنن النسائي حدیث نمبر: 5739
Sunan an-Nasa'i 5739
کتاب #57: کتاب: مشروبات (پینے والی چیزوں) کے احکام و مسائل
56: بَابُ : ذِكْرِ مَا يَجُوزُ شُرْبُهُ مِنَ الأَنْبِذَةِ وَمَا لاَ يَجُوزُ
باب: کون سی نبیذ پینی جائز ہے اور کون سی ناجائز۔
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو عُمَيْرِ بْنِ النَّحَّاسِ , عَنْ ضَمْرَةَ , عَنْ الشَّيْبَانِيِّ , عَنْ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ لَنَا أَعْنَابًا فَمَاذَا نَصْنَعُ بِهَا؟ قَالَ: " زَبِّبُوهَا" , قُلْنَا: فَمَا نَصْنَعُ بِالزَّبِيبِ؟ قَالَ: " انْبِذُوهُ عَلَى غَدَائِكُمْ وَاشْرَبُوهُ عَلَى عَشَائِكُمْ , وَانْبِذُوهُ عَلَى عَشَائِكُمْ وَاشْرَبُوهُ عَلَى غَدَائِكُمْ , وَانْبِذُوهُ فِي الشِّنَانِ وَلَا تَنْبِذُوهُ فِي الْقِلَالِ فَإِنَّهُ إِنْ تَأَخَّرَ صَارَ خَلًّا".
فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہمارے انگور کے باغات ہیں ہم ان کا کیا کریں ؟ آپ نے فرمایا : ” ان کا منقیٰ اور کشمش بنا لو “ ، ہم نے عرض کیا : پھر منقے اور کشمش کا کیا کریں ، آپ نے فرمایا : ” صبح کو بھگاؤ اور شام کو پی لو ، اور شام کو بھگاؤ صبح کو پی لو ، اور اسے مشکیزوں میں بھگاؤ ، گھڑوں میں نہ بھگانا ، اس لیے کہ اگر اس میں وہ ( مشروب ) دیر تک رہ گیا تو سرکہ بن جائے گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5739]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (حسن، صحیح الإسناد)