سنن النسائي حدیث نمبر: 5670
Sunan an-Nasa'i 5670
کتاب #57: کتاب: مشروبات (پینے والی چیزوں) کے احکام و مسائل
44: بَابُ : ذِكْرِ الآثَامِ الْمُتَوَلِّدَةِ عَنْ شُرْبِ الْخَمْرِ
باب: شراب پینے کی وجہ سے ہونے والے گناہ جیسے ترک صلاۃ، اللہ کی طرف حرام کردہ قتل ناحق اور محرم سے زنا کاری وغیرہ کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَاهُ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ، يَقُولُ: " اجْتَنِبُوا الْخَمْرَ فَإِنَّهَا أُمُّ الْخَبَائِثِ، فَإِنَّهُ كَانَ رَجُلٌ مِمَّنْ خَلَا قَبْلَكُمْ يَتَعَبَّدُ وَيَعْتَزِلُ النَّاسَ , فَذَكَرَ مِثْلَهُ، قَالَ: فَاجْتَنِبُوا الْخَمْرَ فَإِنَّهُ وَاللَّهِ لَا يَجْتَمِعُ وَالْإِيمَانُ أَبَدًا إِلَّا يُوشِكَ أَحَدُهُمَا أَنْ يُخْرِجَ صَاحِبَهُ".
عبدالرحمٰن بن حارث کہتے ہیں کہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا : شراب سے بچو ، کیونکہ یہ برائیوں کی جڑ ہے ، تم سے پہلے زمانے کے لوگوں میں ایک شخص تھا جو بہت عبادت گزار تھا اور لوگوں سے الگ رہتا تھا ، پھر اسی طرح ذکر کیا ۔ وہ کہتے ہیں : لہٰذا تم شراب سے بچو ، اس لیے کہ اللہ کی قسم وہ ( یعنی شراب نوشی ) اور ایمان کبھی اکٹھا نہیں ہو سکتے ۔ البتہ ان میں سے ایک دوسرے کو نکال دے گا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5670]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اگر بغیر توبہ کے مر گیا، اور اگر توبہ کر لے گا تو ایمان شراب کے اثر کو نکال دے گا ان شاء اللہ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)