سنن النسائي حدیث نمبر: 5668
Sunan an-Nasa'i 5668
کتاب #57: کتاب: مشروبات (پینے والی چیزوں) کے احکام و مسائل
43: بَابُ : ذِكْرِ الرِّوَايَةِ الْمُبَيِّنَةِ عَنْ صَلَوَاتِ شَارِبِ الْخَمْرِ
باب: شرابیوں کی نماز کے متعلق صریح روایات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا خَلَفٌ يَعْنِي ابْنَ خَلِيفَةَ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: " الْقَاضِي إِذَا أَكَلَ الْهَدِيَّةَ فَقَدْ أَكَلَ السُّحْتَ، وَإِذَا قَبِلَ الرِّشْوَةَ بَلَغَتْ بِهِ الْكُفْرَ". (حديث مقطوع) (حديث موقوف) وَقَالَ مَسْرُوقٌ: " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَقَدْ كَفَرَ، وَكُفْرُهُ أَنْ لَيْسَ لَهُ صَلَاةٌ".
مسروق کہتے ہیں کہ قاضی نے جب ہدیہ لیا ۱؎ تو اس نے حرام کھایا ، اور جب اس نے رشوت قبول کر لی تو وہ کفر تک پہنچ گیا ، مسروق نے کہا : جس نے شراب پی ، اس نے کفر کیا اور اس کا کفر یہ ہے کہ اس کی نماز ( قبول ) نہیں ہوتی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5668]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی کسی ایسے شخص سے جس سے قاضی بننے سے پہلے نہیں لیتا تھا۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، الحكم بن عتيبة عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 366
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 19433) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ”خلف“ حافظہ کے کمزور ہیں)