سنن النسائي حدیث نمبر: 5504
Sunan an-Nasa'i 5504
کتاب #56: کتاب: استعاذہ (بری چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگنے) کے آداب و احکام
44: بَابُ : الاِسْتِعَاذَةِ مِنْ جَارِ السَّوْءِ
باب: برے اور خراب پڑوسی سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ جَارِ السَّوْءِ فِي دَارِ الْمُقَامِ، فَإِنَّ جَارَ الْبَادِيَةِ يَتَحَوَّلُ عَنْكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مستقل رہنے کی جگہ میں برے اور خراب پڑوسی سے اللہ کی پناہ مانگو ، اس لیے کہ صحراء کا پڑوسی ۱؎ تو تم سے جدا ہی ہو جائے گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5504]
💡 وضاحت:
۱؎: جو کچھ دیر کے لیے پڑوسی ہو اور اس کی مستقل رہائش گاہ وہاں نہ ہو، جیسے سفر کا پڑوسی، کلاس کا پڑوسی وغیرہ۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 13054)، مسند احمد (2/34646) (حسن، صحیح)