سنن النسائي حدیث نمبر: 5452
Sunan an-Nasa'i 5452
کتاب #56: کتاب: استعاذہ (بری چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگنے) کے آداب و احکام
7: بَابُ : الاِسْتِعَاذَةِ مِنَ الْهَمِّ
باب: فکر و سوچ اور پریشانی سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَوَاتٌ لَا يَدَعُهُنَّ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، وَالدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا الصَّوَابُ , وَحَدِيثُ ابْنِ فُضَيْلٍ خَطَأٌ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ دعائیں تھیں جنہیں آپ ( پڑھنا ) نہیں چھوڑتے تھے : «اللہم إني أعوذ بك من الهم والحزن والعجز والكسل والبخل والجبن والدين وغلبة الرجال» ” اے اللہ ! میں فکر و سوچ اور پریشانی سے ، عاجزی و کاہلی سے ، کنجوسی و بزدلی سے ، قرض سے اور لوگوں کے غالب آنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں “ ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) نے کہا : یہ حدیث صحیح ہے اور ابن فضیل کی حدیث میں غلطی ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5452]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی محمد بن اسحاق کی حدیث جو عمرو بن ابی عمرو سے بواسطہ انس بن مالک مروی ہے یہ صحیح ہے، جب کہ ابن اسحاق کی روایت جو منہال ابن عمرو سے بواسطہ انس بن مالک مروی ہے یہ صحیح نہیں ہے، کیونکہ منہال کا سماع صحابہ سے ثابت نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الدعوات 40 (6369)، سنن ابی داود/الصلاة 367 (1541)، سنن الترمذی/الدعوات 71 (3484)، (تحفة الأشراف: 1115)، مسند احمد (3/240) ویأتي عند المؤلف برقم: 5478، 5505 (صحیح)