سنن النسائي حدیث نمبر: 5451
Sunan an-Nasa'i 5451
کتاب #56: کتاب: استعاذہ (بری چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگنے) کے آداب و احکام
7: بَابُ : الاِسْتِعَاذَةِ مِنَ الْهَمِّ
باب: فکر و سوچ اور پریشانی سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، عَنْ ابْنِ فُضَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَوَاتٌ لَا يَدَعُهُنَّ، كَانَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ دعائیں تھیں جنہیں آپ ( پڑھنا ) نہیں چھوڑتے تھے : آپ فرماتے : «اللہم إني أعوذ بك من الهم والحزن والعجز والكسل والبخل والجبن وغلبة الرجال» ” اے اللہ ! میں فکر و سوچ اور پریشانی سے ، عاجزی و سستی سے ، کنجوسی و بزدلی سے اور لوگوں کے غالب آنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5451]
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 1606) (صحیح) (اس کے راوی ’’منہال‘‘ کا کسی صحابی سے سماع نہیں ہے، یعنی سند میں انقطاع ہے، لیکن اس باب اور اس سے پہلے کے باب کی احادیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)