سنن النسائي حدیث نمبر: 539
Sunan an-Nasa'i 539
کتاب #9: کتاب: اوقات نماز کے احکام و مسائل
21: بَابُ : آخِرِ وَقْتِ الْعِشَاءِ
باب: عشاء کے اخیر وقت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قال: حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قال: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ ثُمَّ لَمْ يَخْرُجْ إِلَيْنَا حَتَّى ذَهَبَ شَطْرُ اللَّيْلِ، فَخَرَجَ فَصَلَّى بِهِمْ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَنَامُوا وَأَنْتُمْ لَمْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُ الصَّلَاةَ، وَلَوْلَا ضَعْفُ الضَّعِيفِ وَسَقَمُ السَّقِيمِ، لَأَمَرْتُ بِهَذِهِ الصَّلَاةِ أَنْ تُؤَخَّرَ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں کو مغرب پڑھائی ، پھر آپ نہیں نکلے یہاں تک کہ آدھی رات گزر گئی ، پھر نکلے اور آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی ، پھر فرمایا : ” لوگ نماز پڑھ کر سو گئے ہیں ، اور تم لوگ جب تک نماز کا انتظار کرتے رہے نماز ہی میں تھے ، اگر کمزور کی کمزوری ، اور بیمار کی بیماری نہ ہوتی تو میں حکم دیتا کہ اس نماز کو آدھی رات تک مؤخر کیا جائے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 539]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 7 (422)، سنن ابن ماجہ/الصلاة 8 (693)، (تحفة الأشراف: 4314)، مسند احمد 3/5 (صحیح)