سنن النسائي حدیث نمبر: 537
Sunan an-Nasa'i 537
کتاب #9: کتاب: اوقات نماز کے احکام و مسائل
21: بَابُ : آخِرِ وَقْتِ الْعِشَاءِ
باب: عشاء کے اخیر وقت کا بیان۔
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قال: قال ابْنُ جُرَيْجٍ، ح وأَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قال: أَخْبَرَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومِ ابْنَةِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قالت: أَعْتَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى ذَهَبَ عَامَّةُ اللَّيْلِ وَحَتَّى نَامَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى، وَقَالَ: " إِنَّهُ لَوَقْتُهَا، لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء میں تاخیر کی یہاں تک کہ رات کا بہت سا حصہ گزر گیا ، اور مسجد کے لوگ سو گئے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور نماز پڑھائی ، اور فرمایا : ” یہی ( اس نماز کا پسندیدہ ) وقت ہے ، اگر میں اپنی امت پر شاق نہ سمجھتا “ ( تو اسے اس کا حکم دیتا ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 537]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المساجد 39 (638)، (تحفة الأشراف: 17984)، حصحیح مسلم/6 (150)، سنن الدارمی/الصلاة 19 (1250) (صحیح)