سنن النسائي حدیث نمبر: 507
Sunan an-Nasa'i 507
کتاب #9: کتاب: اوقات نماز کے احکام و مسائل
8: بَابُ : تَعْجِيلِ الْعَصْرِ
باب: عصر جلدی پڑھنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَالِكٍ، قال: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ وَإِسْحَاق بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُصَلِّي الْعَصْرَ ثُمَّ يَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى قُبَاءٍ"، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: فَيَأْتِيهِمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ، وَقَالَ الْآخَرُ: وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر پڑھتے تھے ، پھر جانے والا قباء جاتا ، زہری اور اسحاق دونوں میں سے ایک کی روایت میں ہے تو وہ ان کے پاس پہنچتا اور وہ لوگ نماز پڑھ رہے ہوتے ، اور دوسرے کی روایت میں ہے : اور سورج بلند ہوتا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 507]
💡 وضاحت:
۱؎: مسجد قباء مسجد نبوی سے تین میل کی دوری پر ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المواقیت 13 (548)، صحیح مسلم/المساجد 34 (621)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة 1 (10)، (تحفة الأشراف: 202) (صحیح)