سنن النسائي حدیث نمبر: 4974
Sunan an-Nasa'i 4974
کتاب #51: کتاب: چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احکام و مسائل
13: بَابُ : مَا لاَ قَطْعَ فِيهِ
باب: جن چیزوں کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ مَخْلَدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَيْسَ عَلَى خَائِنٍ، وَلَا مُنْتَهِبٍ، وَلَا مُخْتَلِسٍ قَطْعٌ"، لَمْ يَسْمَعْهُ سُفْيَانُ مِنْ أَبِي الزُّبَيْرِ.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” امانت میں خیانت کرنے والے ، علانیہ لوٹ کر لے جانے اور اچک لینے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا “ ۱؎ ۔ ( ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : ) اسے سفیان نے ابو الزبیر سے نہیں سنا ۔ ( اس کی دلیل اگلی سند ہے ) [سنن نسائي/حدیث: 4974]
💡 وضاحت:
۱؎: خیانت، اچک لینے اور چھین لینے میں اسی لیے ہاتھ کاٹنا نہیں ہے کہ ان سب کے اندر یہ ممکن ہے کہ ان کو انجام دینے والوں پر آسانی سے اور جلد قابو پایا جا سکتا ہے اور گواہی قائم کی جا سکتی ہے، برخلاف چوری کے، اس لیے کہ چوری کا جرم زیادہ سنگین ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح لم يسمعه سفيان من أبي الزبير
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 2761) (صحیح)