سنن النسائي حدیث نمبر: 4946
Sunan an-Nasa'i 4946
کتاب #51: کتاب: چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احکام و مسائل
10: بَابُ : ذِكْرِ اخْتِلاَفِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عَمْرَةَ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ
باب: اس حدیث میں عمرہ سے روایت کرنے میں ابوبکر بن محمد اور عبداللہ بن ابی بکر کے اختلاف کا ذکر۔
وَأَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَيْمَنَ، قَالَ: " لَمْ يَقْطَعِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّارِقَ إِلَّا فِي ثَمَنِ الْمِجَنِّ، وَثَمَنُ الْمِجَنِّ يَوْمَئِذٍ دِينَارٌ".
ایمن کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چور کا ہاتھ نہیں کاٹا مگر ایسی چیز میں جو ڈھال کی قیمت کے برابر ہو اور اس وقت ڈھال کی قیمت ایک دینار تھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4946]
قال الشيخ الألباني:
منكر
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، لإرساله قال ابن حبان فى الثقات (4/ 47): ’’أيمن بن عبيد الحبشي.....ومن زعم أن له صحبة فقد وهم،حديثه فى القطع مرسل‘‘. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 359
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 1749)، وأعادہ بالأرقام التالیة: 4947-4952 (منکر) (اس کے راوی ”ایمن“ صحابی نہیں ہیں، ایک مجہول تابعی ہیں، اس لئے یہ حدیث ضعیف اور صحیح حدیث کی مخالف بھی ہے، اس لیے منکر ہے)