سنن النسائي حدیث نمبر: 483
Sunan an-Nasa'i 483
کتاب #8: کتاب: نماز کے احکام و مسائل
19: بَابُ : فَضْلِ صَلاَةِ الْعِشَاءِ
باب: نماز عشاء کی فضیلت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: " أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعِشَاءِ حَتَّى نَادَاهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ يُصَلِّي هَذِهِ الصَّلَاةَ غَيْرَكُمْ". وَلَمْ يَكُنْ يَوْمَئِذٍ أَحَدٌ يُصَلِّي غَيْرَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کو مؤخر کیا یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو آواز دی کہ عورتیں اور بچے سو گئے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے ، اور فرمایا : ” تمہارے سوا کوئی نہیں جو اس نماز کو ( اس وقت ) پڑھ رہا ہو “ ، ان دنوں اہل مدینہ کے سوا کوئی اور نماز پڑھنے والا نہیں تھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 483]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأذان 161 (862) تعلیقاً، (تحفة الأشراف: 16642)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 39 (638)، مسند احمد 6/34، 199، 215، 272، سنن الدارمی/الصلاة 19 (1249) (صحیح)