سنن النسائي حدیث نمبر: 4761
Sunan an-Nasa'i 4761
کتاب #50: کتاب: قسامہ، قصاص اور دیت کے احکام و مسائل
17: بَابُ : الْقِصَاصِ مِنَ الثَّنِيَّةِ
باب: دانت کے قصاص کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَسَرَتْ الرُّبَيِّعُ ثَنِيَّةَ جَارِيَةٍ , فَطَلَبُوا إِلَيْهِمُ الْعَفْوَ فَأَبَوْا , فَعُرِضَ عَلَيْهِمُ الْأَرْشُ فَأَبَوْا , فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَمَرَ بِالْقِصَاصِ، قَالَ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تُكْسَرُ ثَنِيَّةُ الرُّبَيِّعِ لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا تُكْسَرُ، قَالَ: " يَا أَنَسُ , كِتَابُ اللَّهِ الْقِصَاصُ" , فَرَضِيَ الْقَوْمُ وَعَفَوْا، فَقَالَ: " إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ربیع نے ایک لڑکی کے دانت توڑ دیے ، چنانچہ انہوں نے معاف کر دینے کی درخواست کی تو ان لوگوں نے انکار کیا ، پھر ان کے سامنے دیت کی پیش کش کی گئی ، تو انہوں نے اس کا بھی انکار کیا ، چنانچہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، آپ نے انہیں قصاص کا حکم دیا ، انس بن نضر رضی اللہ عنہ بولے : اللہ کے رسول ! کیا ربیع کے دانت توڑے جائیں گے ؟ نہیں ، قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے ، وہ نہیں توڑے جائیں گے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انس ! اللہ کی کتاب میں قصاص کا حکم ہے “ ، پھر وہ لوگ راضی ہو گئے اور انہیں معاف کر دیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کے بعض بندے ایسے ہیں جو اگر اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کر کے قسم کھائیں تو اللہ تعالیٰ انہیں سچا کر دکھاتا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4761]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الدیات 16 (2649)، (تحفة الأشراف: 636) (صحیح)