📖 سنن النسائي • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن النسائي

Sunan an-Nasa'i (سُنَنُ النَّسَائِيِّ (المجتبى))
📁 کتاب: قسامہ، قصاص اور دیت کے احکام و مسائل (كتاب القسامة والقود والديات) 🏷️ باب: باب: قصاص کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن النسائي حدیث نمبر: 4727 Sunan an-Nasa'i 4727
کتاب #50: کتاب: قسامہ، قصاص اور دیت کے احکام و مسائل
5: بَابُ : الْقَوَدِ
باب: قصاص کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاق، عَنْ عَوْفٍ الْأَعْرَابِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جِيءَ بِالْقَاتِلِ الَّذِي قَتَلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ بِهِ وَلِيُّ الْمَقْتُولِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَعْفُو؟"، قَالَ: لَا، قَالَ: " أَتَقْتُلُ؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " اذْهَبْ"، فَلَمَّا ذَهَبَ دَعَاهُ، قَالَ: " أَتَعْفُو؟"، قَالَ: لَا، قَالَ: " أَتَأْخُذُ الدِّيَةَ؟"، قَالَ: لَا، قَالَ: " أَتَقْتُلُ؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " اذْهَبْ" , فَلَمَّا ذَهَبَ، قَالَ: " أَمَا إِنَّكَ إِنْ عَفَوْتَ عَنْهُ فَإِنَّهُ يَبُوءُ بِإِثْمِكَ وَإِثْمِ صَاحِبِكَ"، فَعَفَا عَنْهُ فَأَرْسَلَهُ، قَالَ: فَرَأَيْتُهُ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ.
وائل حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس قاتل کو جس نے قتل کیا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا ، اسے مقتول کا ولی پکڑ کر لایا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم معاف کرو گے ؟ “ اس نے کہا : نہیں ، آپ نے فرمایا : ” کیا قتل کرو گے ؟ “ اس نے کہا : ہاں ، آپ نے فرمایا : ” جاؤ ( قتل کرو ) “ ، جب وہ ( قتل کرنے ) چلا تو آپ نے اسے بلا کر کہا : ” کیا تم معاف کرو گے ؟ “ اس نے کہا : نہیں ، آپ نے فرمایا : ” کیا دیت لو گے ؟ “ اس نے کہا : نہیں ، آپ نے فرمایا : ” تو کیا قتل کرو گے ؟ “ اس نے کہا : ہاں ، آپ نے فرمایا : ” جاؤ ( قتل کرو ) “ ، جب وہ ( قتل کرنے ) چلا ، تو آپ نے فرمایا : ” اگر تم اسے معاف کر دو تو تمہارا گناہ اور تمہارے ( مقتول ) آدمی کا گناہ اسی پر ہو گا “ ۱؎ ، چنانچہ اس نے اسے معاف کر دیا اور اسے چھوڑ دیا ، میں نے اسے دیکھا کہ وہ اپنی رسی گھسیٹتا جا رہا تھا ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4727]
💡 وضاحت:
۱؎: حدیث کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ بلا کچھ لیے دئیے ولی کے معاف کر دینے کی صورت میں ولی اور مقتول دونوں کے گناہ کا حامل قاتل ہو گا، لیکن اس میں اشکال ہے کہ ولی کے گناہ کا حامل کیونکر ہو گا، اس لیے حدیث کے اس ظاہری مفہوم کی توجیہ کچھ اس طرح کی گئی ہے کہ ولی کے معاف کر دینے کے سبب رب العالمین ولی اور مقتول دونوں کو مغفرت سے نوازے گا اور قاتل اس حال میں لوٹے گا کہ مغفرت کے سبب ان دونوں کے گناہ زائل ہو چکے ہوں گے۔ ۲؎: یہ وہی آدمی ہے جس کا تذکرہ پچھلی حدیث میں گزرا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/القسامة 10 (الحدود10) (1680)، سنن ابی داود/الدیات 3 (4499، 4500، 4501)، (تحفة الأشراف: 11769)، سنن الدارمی/الدیات 8 (2404) وأعادہ المؤلف في القضاء 26 (برقم5417)، وانظرالأرقام التالیة: 4728-4733 (صحیح)
سنن النسائي • حدیث #4727
4725 4726 4727 4728 4729

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#4725 أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَ...
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی مسلمان ک...
#4726 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ , وَأَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ , وَاللَّفْظُ لِأَحْمَدَ، قَالَا: حَد...
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قتل کر دیا گیا ،...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ