سنن النسائي حدیث نمبر: 463
Sunan an-Nasa'i 463
کتاب #8: کتاب: نماز کے احکام و مسائل
7: بَابُ : فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ
باب: پنج وقتہ نمازوں کی فضیلت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهَرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ هَلْ يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ"، قَالُوا: لَا يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ، قَالَ: " فَكَذَلِكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ يَمْحُو اللَّهُ بِهِنَّ الْخَطَايَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگوں کا کیا خیال ہے کہ اگر کسی کے دروازے پر کوئی نہر ہو جس سے وہ ہر روز پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو ، کیا اس کے جسم پر کچھ بھی میل باقی رہے گا “ ، لوگوں نے کہا : کچھ بھی میل باقی نہیں رہے گا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو اسی طرح پانچوں نمازوں کی مثال ہے ، اللہ تعالیٰ ان کی وجہ سے گناہوں کو مٹا دیتا ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 463]
💡 وضاحت:
۱؎: لیکن شرط یہ ہے کہ ان نمازوں کو سنت کے مطابق خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کیا جائے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/مواقیت 6 (528)، صحیح مسلم/المساجد 51 (667)، سنن الترمذی/الأمثال 5 (2868)، (تحفة الأشراف: 14998)، مسند احمد 2/379، 426، 427، 441، سنن الدارمی/الصلاة 1/1221 (صحیح)