سنن النسائي حدیث نمبر: 450
Sunan an-Nasa'i 450
کتاب #8: کتاب: نماز کے احکام و مسائل
1: بَابُ : فَرْضِ الصَّلاَةِ وَذِكْرِ اخْتِلاَفِ النَّاقِلِينَ فِي إِسْنَادِ حَدِيثِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رضى الله عنه - وَاخْتِلاَفِ أَلْفَاظِهِمْ فِيهِ
باب: نماز کی فرضیت اور اس سلسلے میں انس بن مالک کی حدیث کی سند میں راویوں کے اختلاف اور اس (کے متن) میں ان کے لفظی اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قال: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قال أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، وَابْنُ حَزْمٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى أُمَّتِي خَمْسِينَ صَلَاةً فَرَجَعْتُ بِذَلِكَ حَتَّى أَمُرَّ بِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام، فَقَالَ: مَا فَرَضَ رَبُّكَ عَلَى أُمَّتِكَ؟ قُلْتُ: فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسِينَ صَلَاةً، قَالَ لِي مُوسَى: فَرَاجِعْ رَبَّكَ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ، فَرَاجَعْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَوَضَعَ شَطْرَهَا، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: رَاجِعْ رَبَّكَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ، فَرَاجَعْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ: هِيَ خَمْسٌ وَهِيَ خَمْسُونَ لَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى، فَقَالَ: رَاجِعْ رَبَّكَ، فَقُلْتُ: قَدِ اسْتَحْيَيْتُ مِنْ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ".
انس بن مالک اور ابن حزم رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ عزوجل نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں ، تو میں انہیں لے کر لوٹا ، تو موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزر ہوا ، تو انہوں نے پوچھا : آپ کے رب نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے ؟ میں نے کہا : اس نے ان پر پچاس نمازیں فرض کی ہیں ، تو موسیٰ علیہ السلام نے مجھ سے کہا : جا کر اپنے رب سے پھر سے بات کیجئے ، آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھے گی ، تو میں نے اپنے رب عزوجل سے بات کی ، تو اللہ تعالیٰ نے اس میں سے آدھا ۱؎ معاف کر دیا ، تو میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا ، اور میں نے انہیں اس کی خبر دی ، تو انہوں نے کہا : اپنے رب سے پھر بات کیجئے ، آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھے گی ، چنانچہ میں نے اپنے رب سے پھر سے بات کی ، تو اس نے کہا : یہ پانچ نمازیں ہیں جو ( اجر میں ) پچاس ( کے برابر ) ہیں ، میرے نزدیک فرمان بدلا نہیں جاتا ، پھر میں موسیٰ ( علیہ السلام ) کے پاس واپس آیا ، تو انہوں نے کہا : اپنے رب سے جا کر پھر بات کیجئے ، میں نے کہا : مجھے اپنے رب کے پاس ( باربار ) جانے سے شرم آ رہی ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 450]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی پانچ پانچ کر کے پانچ بار میں آدھا معاف کیا، یا «شطر» سے مراد آدھا نہیں بلکہ کچھ حصہ ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصلا ة1/349 وأحادیث الأنبیاء 5 (3342)، صحیح مسلم/الإیمان 74 (163)، سنن ابن ماجہ/إقامة 194 (1399)، (تحفة الأشراف: 1556) (صحیح)