سنن النسائي حدیث نمبر: 4364
Sunan an-Nasa'i 4364
کتاب #47: کتاب: شکار اور ذبیحہ کے احکام و مسائل
38: بَابُ : قَتْلِ النَّمْلِ
باب: چیونٹیوں کو مارنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا النَّضْرُ وَهُوَ ابْنُ شُمَيْلٍ , قَالَ: أَنْبَأَنَا أَشْعَثُ، عَنِ الْحَسَنِ: " نَزَلَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَلَدَغَتْهُ نَمْلَةٌ، فَأَمَرَ بِبَيْتِهِنَّ فَحُرِّقَ عَلَى مَا فِيهَا، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ فَهَلَّا نَمْلَةٌ وَاحِدَةٌ". وقَالَ الْأَشْعَثُ: عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ، وَزَادَ: " فَإِنَّهُنَّ يُسَبِّحْنَ".
حسن بصری سے روایت ہے کہ ایک نبی ایک درخت کے نیچے ٹھہرے تو انہیں ایک چیونٹی نے کاٹ لیا ، انہوں نے ان کے گھروں کے بارے میں حکم دیا تو ان میں جو بھی تھا اسے جلا دیا گیا ، اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی نازل کی : ” آخر تم نے صرف ایک کو کیوں نہ جلایا “ ۔ اشعث کہتے ہیں : ابن سیرین سے روایت ہے وہ ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث روایت کرتے ہیں ، اس میں یہ زائد ہے ” اس لیے کہ وہ تسبیح ( اللہ کی پاکی بیان ) کر رہی تھیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4364]
قال الشيخ الألباني:
صحيح مقطوع
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 12257، 14404)، ویأتي عند المؤلف: 4366) (صحیح) (حدیث اور حسن بصری کا اثر دونوں صحیح ہیں)