سنن النسائي حدیث نمبر: 4363
Sunan an-Nasa'i 4363
کتاب #47: کتاب: شکار اور ذبیحہ کے احکام و مسائل
38: بَابُ : قَتْلِ النَّمْلِ
باب: چیونٹیوں کو مارنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدٍ، وَأَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّ نَمْلَةً قَرَصَتْ نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ، فَأَمَرَ بِقَرْيَةِ النَّمْلِ فَأُحْرِقَتْ، فَأَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ، أَنْ قَدْ قَرَصَتْكَ نَمْلَةٌ، أَهْلَكْتَ أُمَّةً مِنَ الْأُمَمِ تُسَبِّحُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک چیونٹی نے نبیوں میں سے ایک نبی کو کاٹ لیا تو انہوں نے چیونٹیوں کے گھر کو جلا دینے کا حکم دیا اور وہ جلا دیا گیا ، اس پر اللہ تعالیٰ نے وحی نازل کی : اگر تمہیں کسی چیونٹی نے کاٹ لیا تھا تو ( ایک ہی کو مارتے مگر ) تم نے ایک ایسی امت ( مخلوق ) کو مار ڈالا جو ( ہماری ) تسبیح ( پاکی بیان ) کر رہی تھی “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4363]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس نبی کی شریعت میں کاٹنے والی چیونٹی کو جلانا جائز تھا مگر اسلامی شریعت میں جلانا جائز نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجہاد 153 (3019)، بدء الخلق 16 (3319)، صحیح مسلم/السلام 39 (2241)، سنن ابی داود/الأدب 176 (5266)، سنن ابن ماجہ/الصید10(3225)، (تحفة الأشراف: 15307، 13319)، مسند احمد (2/403) (صحیح)