سنن النسائي حدیث نمبر: 436
Sunan an-Nasa'i 436
کتاب #7: کتاب: غسل اور تیمم کے احکام و مسائل
28: بَابُ : الْوُضُوءِ مِنَ الْمَذْىِ
باب: مذی نکلنے سے وضو کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، قال: حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: تَذَاكَرَ عَلِيٌّ، وَالْمِقْدَادُ، وَعَمَّارٌ، فَقَالَ عَلِيٌّ إِنِّي امْرُؤٌ مَذَّاءٌ وَإِنِّي أَسْتَحِي أَنْ أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَكَانِ ابْنَتِهِ مِنِّي فَيَسْأَلُهُ أَحَدُكُمَا، فَذَكَرَ لِي أَنَّ أَحَدَهُمَا وَنَسِيتُهُ سَأَلَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ذَاكَ الْمَذْيُ إِذَا وَجَدَهُ أَحَدُكُمْ فَلْيَغْسِلْ ذَلِكَ مِنْهُ وَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ أَوْ كَوُضُوءِ الصَّلَاةِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ علی ، مقداد اور عمار رضی اللہ عنہم نے آپس میں بات کی ، علی رضی اللہ عنہ نے کہا : میں ایک ایسا آدمی ہوں جسے بہت مذی آتی ہے اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اس کے بارے میں ) پوچھنے سے شرماتا ہوں ، اس لیے کہ آپ کی صاحبزادی میرے عقد نکاح میں ہیں ، تو تم دونوں میں سے کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھے ( عطاء کہتے ہیں : ) ابن عباس رضی اللہ عنہا نے مجھ سے ذکر کیا کہ ان دونوں میں سے ایک نے ( میں اس کا نام بھول گیا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ مذی ہے ، جب تم میں سے کوئی اسے پائے تو اسے اپنے جسم سے دھو لے ، اور نماز کے وضو کی طرح وضو کرے “ ، راوی کو شک ہے «وضوئه للصلاة» کہا یا ” «كوضوء الصلاة» کہا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 436]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الحیض 4 (303)، (تحفة الأشراف 10195)، مسند احمد 1/110، وعبداللہ بن أحمد، ویأتی عندالمؤلف برقم (437، 439، 440) (صحیح الإسناد)