سنن النسائي حدیث نمبر: 435
Sunan an-Nasa'i 435
کتاب #7: کتاب: غسل اور تیمم کے احکام و مسائل
27: بَابُ : التَّيَمُّمِ لِمَنْ يَجِدُ الْمَاءَ بَعْدَ الصَّلاَةِ
باب: تیمم سے نماز پڑھنے کے بعد اگر پانی مل جائے تو کیا حکم ہے؟
أخبرنا محمد بن عبد الأعلى أنبأنا أمية بن خالد حدثنا شعبة أن مخارقا أخبرهم عن طارق بن شهاب أن رجلا أجنب فلم يصل فأتى النبي صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك له فقال " أصبت " . فأجنب رجل آخر فتيمم وصلى فأتاه فقال نحوا مما قال للآخر يعني " أصبت " .
طارق بن شہاب سے روایت ہے کہ ایک شخص جنبی ہو گیا ، تو اس نے نماز نہیں پڑھی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے ٹھیک کیا “ ، پھر ایک دوسرا آدمی جنبی ہوا ، تو اس نے تیمم کیا ، اور نماز پڑھ لی ، تو آپ نے اس سے بھی اسی طرح کی بات کہی جو آپ نے دوسرے سے کہی تھی یعنی تم نے ٹھیک کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 435]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 325 (صحیح الإسناد)