سنن النسائي حدیث نمبر: 4301
Sunan an-Nasa'i 4301
کتاب #47: کتاب: شکار اور ذبیحہ کے احکام و مسائل
16: بَابُ : الرُّخْصَةِ فِي ثَمَنِ كَلْبِ الصَّيْدِ
باب: شکاری کتے کی قیمت لینے کی رخصت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَال: حَدَّثَنَا ابْنُ سَوَاءٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ لِي كِلَابًا مُكَلَّبَةً فَأَفْتِنِي فِيهَا؟، قَالَ: " مَا أَمْسَكَ عَلَيْكَ كِلَابُكَ فَكُلْ"، قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلْنَ؟، قَالَ: " وَإِنْ قَتَلْنَ"، قَالَ: أَفْتِنِي فِي قَوْسِي؟، قَالَ: " مَا رَدَّ عَلَيْكَ سَهْمُكَ فَكُلْ"، قَالَ: وَإِنْ تَغَيَّبَ عَلَيَّ؟، قَالَ: " وَإِنْ تَغَيَّبَ عَلَيْكَ مَا لَمْ تَجِدْ فِيهِ أَثَرَ سَهْمٍ غَيْرَ سَهْمِكَ، أَوْ تَجِدْهُ قَدْ صَلَّ يَعْنِي قَدْ أَنْتَنَ". قَالَ ابْنُ سَوَاءٍ: وَسَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي مَالِكٍ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَن النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا : اللہ کے رسول ! میرے پاس کچھ شکاری کتے ہیں ، آپ نے فرمایا : ” تمہارے لیے تمہارے کتے جو پکڑ کر لائیں اسے کھاؤ “ ۔ میں نے عرض کیا : اگرچہ وہ اسے قتل کر ڈالیں ؟ آپ نے فرمایا : ” اگرچہ قتل کر ڈالیں “ ، اس نے کہا : ( میں اپنے تیر کمان سے فائدہ اٹھاتا ہوں لہٰذا ) مجھے تیر کمان کے سلسلے میں بتائیے ، آپ نے فرمایا : ” جو شکار تمہیں تیر سے ملے تو اسے کھاؤ “ ، اس نے کہا : اگر وہ ( شکار تیر کھا کر ) غائب ہو جائے ؟ آپ نے فرمایا : ” اگرچہ وہ غائب ہو جائے ، جب تک کہ تم اس میں اپنے تیر کے علاوہ کسی چیز کا نشان نہ پاؤ یا اس میں بدبو نہ پیدا ہوئی ہو “ ۱؎ ۔ ابن سواء کہتے ہیں : میں نے اسے ابو مالک عبیداللہ بن اخنس سے سنا ہے وہ اسے بسند عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما عن النبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روایت کرتے ہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4301]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے مؤلف نے باب پر اس طرح استدلال کیا ہے کہ جب شکار کے لیے کتے استعمال کرنے کی رخصت ہے تو بھر اس کی خرید و فروخت کی بھی رخصت ہے، لیکن جمہور اس استدلال کے خلاف ہیں، پچھلی احادیث میں صراحت ہے کہ کتے کی قیمت لینی دینی حرام ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8758)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصید2(2857)، مسند احمد (2/184) (حسن صحیح)