سنن النسائي حدیث نمبر: 4299
Sunan an-Nasa'i 4299
کتاب #47: کتاب: شکار اور ذبیحہ کے احکام و مسائل
15: بَابُ : النَّهْىِ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ
باب: کتے کی قیمت لینے کی ممانعت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " شَرُّ الْكَسْبِ مَهْرُ الْبَغِيِّ، وَثَمَنُ الْكَلْبِ، وَكَسْبُ الْحَجَّامِ".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بری کمائی زانیہ عورت کی کمائی ، کتے کی قیمت ، اور پچھنا لگانے کی اجرت ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4299]
💡 وضاحت:
۱؎: «کسب الحجام» کے سلسلہ میں «شرالکسب» کا لفظ حرام ہونے کے مفہوم میں نہیں ہے بلکہ گھٹیا اور غیر شریفانہ ہونے کے معنی میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محیصہ رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا کہ پچھنا لگانے کی اجرت سے اپنے اونٹ اور غلام کو فائدہ پہنچاؤ، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بذات خود پچھنا لگوایا اور لگانے والے کو اس کی اجرت بھی دی، پس پچھنا لگانے والے کی کمائی کے متعلق «شر» کا لفظ ایسے ہی ہے جیسے آپ نے «ثوم و بصل» (لہسن، پیاز) کو خبیث کہا جب کہ ان دونوں کا استعمال حرام نہیں ہے، اسی طرح حجام کی کمائی بھی حرام نہیں ہے یہ اور بات ہے کہ یہ پیشہ گھٹیا اور غیر شریفانہ ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المساقاة 9 (البیوع30) (1568)، سنن ابی داود/البیوع 39 (3421)، سنن الترمذی/البیوع 46 (1275)، (تحفة الأشراف: 3555)، مسند احمد (3/464، 465 و4/141)، سنن الدارمی/البیوع 78 (26630) (صحیح)