سنن النسائي حدیث نمبر: 4266
Sunan an-Nasa'i 4266
کتاب #46: کتاب: فرع و عتیرہ کے احکام و مسائل
10: بَابُ : الْفَأْرَةِ تَقَعُ فِي السَّمْنِ
باب: چوہیا گھی میں گر جائے تو کیا کیا جائے؟
أَخْبَرَنَا سَلَمَةُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سُلَيْمِ بْنِ عُثْمَانَ الْفَوْزِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَدِّي الْخَطَّابُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِثُ بْنُ عَجْلَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِعَنْزٍ مَيِّتَةٍ , فَقَالَ: " مَا كَانَ عَلَى أَهْلِ هَذِهِ الشَّاةِ لَوِ انْتَفَعُوا بِإِهَابِهَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مردہ بکری کے پاس سے گزرے تو فرمایا : ” اس بکری والوں پر کوئی حرج نہ ہوتا اگر وہ اس کی کھال ( دباغت دے کر ) سے فائدہ اٹھا لیتے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4266]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الذبائح 30 (5532)، (تحفة الأشراف: 5446) (صحیح الإسناد)