سنن النسائي حدیث نمبر: 4265
Sunan an-Nasa'i 4265
کتاب #46: کتاب: فرع و عتیرہ کے احکام و مسائل
10: بَابُ : الْفَأْرَةِ تَقَعُ فِي السَّمْنِ
باب: چوہیا گھی میں گر جائے تو کیا کیا جائے؟
أَخْبَرَنَا خُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بُوذُوَيْهِ، أَنَّ مَعْمَرًا ذَكَرَهُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سُئِلَ , عَنِ الْفَأْرَةِ تَقَعُ فِي السَّمْنِ، فَقَالَ: " إِنْ كَانَ جَامِدًا فَأَلْقُوهَا، وَمَا حَوْلَهَا، وَإِنْ كَانَ مَائِعًا فَلَا تَقْرَبُوهُ".
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چوہیا کے متعلق پوچھا گیا جو گھی میں گر جائے ؟ تو آپ نے فرمایا : ” اگر گھی جما ہوا ہو تو اسے اور اس کے اردگرد کے گھی کو نکال پھینکو اور اگر جما ہوا نہ ہو تو تم اس کے قریب نہ جاؤ “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4265]
💡 وضاحت:
۱؎: سند اور علم حدیث کے قواعد کے لحاظ سے یہ حدیث درجہ میں پہلی حدیث سے کم تر ہے، اور اس کے مخالف ہونے کی وجہ سے ”شاذ“ ہے، لیکن پہلی حدیث کے مضمون ہی سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اسی قسم کے گھی کا ”اردگرد“ ہو سکتا ہے جو جامد ہو، اور اگر سیال (بہنے والا) ہو تو اس کا ”اردگرد“ کیسے ہو سکتا ہے؟ اسی لیے بہت سے علماء اس حدیث کے مطابق فتوی دیتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
شاذ
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (3843) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 353
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (شاذ) (معمر کے سوا زہری کے اکثر تلامذہ اس کو بغیر تفصیل کے روایت کرتے ہیں جیسے پچھلی دونوں روایتوں میں ہے)