سنن النسائي حدیث نمبر: 4254
Sunan an-Nasa'i 4254
کتاب #46: کتاب: فرع و عتیرہ کے احکام و مسائل
5: بَابُ : مَا يُدْبَغُ بِهِ جُلُودُ الْمَيْتَةِ
باب: مردار کی کھال کو دباغت دینے والی چیزوں کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَيْنَا كِتَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ: " أَنْ لَا تَنْتَفِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ وَلَا عَصَبٍ".
عبداللہ بن عکیم جہنی کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب گرامی پڑھ کر سنایا گیا ( اس وقت میں ایک نوخیز لڑکا تھا ) کہ تم لوگ مردے کی بغیر دباغت کی ہوئی کھال یا پٹھے سے فائدہ مت اٹھاؤ “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4254]
💡 وضاحت:
۱؎: بعض لوگوں نے اس حدیث کو ناسخ، اور ابن عباس اور میمونہ رضی اللہ عنہم کی حدیثوں کو منسوخ قرار دیا ہے کیونکہ یہ مکتوب آپ کی وفات سے چھ ماہ پہلے کا ہے، لیکن جمہور محدثین نے اس کے برخلاف پچھلی حدیثوں کو ہی سند کے لحاظ سے زیادہ صحیح ہونے کی بنیاد پر راجح قرار دیا ہے، صحیح بات یہ ہے کہ دونوں حدیثوں میں کوئی تضاد نہیں، پچھلی حدیثوں میں جو مردار کے چمڑے سے نفع اٹھانے کی اجازت ہے وہ دباغت کے بعد ہے، اور (مخضرم راوی) عبداللہ بن عکیم کی حدیث میں جو ممانعت ہے وہ دباغت سے پہلے کی ہے (دیکھئیے اگلی حدیث) امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے اس حدیث کے بعد نضر بن سہیل سے نقل کیا ہے کہ «إہاب» دباغت سے پہلے والے چمڑے کو کہتے ہیں، اور دباغت کے بعد چمڑے کو «شف» یا «قربۃ» کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/اللباس 42 (4127)، سنن الترمذی/اللباس 7 (1727)، سنن ابن ماجہ/اللباس 26 (3613)، (تحفة الأشراف: 6642)، مسند احمد (4/310، 311)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 4255، 4256) (صحیح) (الإرواء 38، وتراجع الالبانی 470)