سنن النسائي حدیث نمبر: 4253
Sunan an-Nasa'i 4253
کتاب #46: کتاب: فرع و عتیرہ کے احکام و مسائل
5: بَابُ : مَا يُدْبَغُ بِهِ جُلُودُ الْمَيْتَةِ
باب: مردار کی کھال کو دباغت دینے والی چیزوں کا بیان۔
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَالِكِ بْنِ حُذَافَةَ حَدَّثَهُ، عَنِ الْعَالِيَةِ بِنْتِ سُبَيْعٍ، أَنَّ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَتْهَا، أَنَّهُ مَرَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجَالٌ مِنْ قُرَيْشٍ يَجُرُّونَ شَاةً لَهُمْ مِثْلَ الْحِصَانِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ أَخَذْتُمْ إِهَابَهَا"، قَالُوا: إِنَّهَا مَيْتَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُطَهِّرُهَا الْمَاءُ وَالْقَرَظُ".
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے قریش کے کچھ لوگ گزرے ، وہ اپنی ایک بکری کو گدھے کی طرح گھسیٹ رہے تھے ، ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تم لوگ اس کی کھال رکھ لیتے “ ( تو بہتر ہوتا ) ، انہوں نے کہا : وہ مردار ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے پانی اور سلم درخت کا پتا ( جس سے دباغت دی جاتی ہے ) پاک کر دیتے ہیں “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4253]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ ضروری نہیں کہ ہمارے زمانہ میں بھی دباغت کے لیے پانی کے ساتھ ساتھ اس دور کے کانٹے دار درخت ہی کا استعمال کیا جائے، موجودہ ترقی یافتہ زمانہ میں جس پاک چیز سے بھی دباغت دی جائے مقصد حاصل ہو گا لیکن اس کے ساتھ پانی کا استعمال ضروری ہے ( «قرظ» : ایک سلم نامی کانٹے دار درخت کے پتے)۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/اللباس 41 (4126)، (تحفة الأشراف: 18084)، مسند احمد (6/333، 334) (صحیح)