سنن النسائي حدیث نمبر: 4216
Sunan an-Nasa'i 4216
کتاب #44: کتاب: بیعت کے احکام و مسائل
39: بَابُ : مَا يُكْرَهُ مِنَ الْحِرْصِ عَلَى الإِمَارَةِ
باب: منصب اور سرداری کی خواہش ناپسندیدہ عمل ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آَدَمَ بْنِ سُلَيْمَانِ , عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ , عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ , عَنِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إنَّكُمْ سَتَحْرِصُونَ عَلَى الإِمارَةِ , وَإنَّهَا سَتَكُونُ نَدَامَةً وَحَسْرَةً , فَنَعِمَتِ المُرْضِعَةُ , وَبَئِسَتِ الْفَاطِمَةُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عنقریب تم لوگ امارت و سرداری کی خواہش کرو گے لیکن وہ باعث ندامت و حسرت ہو گی ، اس لیے کہ دودھ پلانے والی کتنی اچھی ہوتی ہے ، اور دودھ چھڑانے والی کتنی بری ہوتی ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4216]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی حکومت ملتے وقت وہ بھلی لگتی ہے اور جاتے وقت بری لگتی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأحکام 7 (7148)، (تحفة الأشراف: 13017)، مسند احمد (2/448، 476) ویأتي عند المؤلف في القضاء (برقم5387) (صحیح)