سنن النسائي حدیث نمبر: 4206
Sunan an-Nasa'i 4206
کتاب #44: کتاب: بیعت کے احکام و مسائل
32: بَابُ : بِطَانَةِ الإِمَامِ
باب: امام اور حاکم کے راز دار اور مشیر کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَمَّرُ بْنُ يَعْمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ وَالٍ، إِلَّا وَلَهُ بِطَانَتَانِ، بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْمَعْرُوفِ، وَتَنْهَاهُ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَبِطَانَةٌ لَا تَأْلُوهُ خَبَالًا، فَمَنْ وُقِيَ شَرَّهَا فَقَدْ وُقِيَ، وَهُوَ مِنَ الَّتِي تَغْلِبُ عَلَيْهِ مِنْهُمَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایسا کوئی حاکم نہیں جس کے دو قسم کے مشیر نہ ہوں ، ایک مشیر اسے نیکی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے روکتا ہے ، اور دوسرا اسے بگاڑنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتا ۔ لہٰذا جو اس کے شر سے بچا وہ بچ گیا اور ان دونوں مشیروں میں سے جو اس پر غالب آ جاتا ہے وہ اسی میں سے ہو جاتا ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4206]
💡 وضاحت:
۱؎: اس لیے ہر صاحب اختیار (خواہ حاکم اعلی ہو یا ادنیٰ جیسے گورنر، تھانے دار یا کسی تنظیم کا سربراہ) اسے چاہیئے کہ اپنا مشیر بہت چھان پھٹک کر اختیار کرے، اس کے ساتھ ساتھ یہ دعا بھی کرتا رہے کہ اے اللہ! مجھے صالح مشیر کار عطا فرما۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأحکام 42 (7198 تعلیقًا)، (تحفة الأشراف: 15269)، مسند احمد (2/237، 289) (صحیح)