سنن النسائي حدیث نمبر: 4189
Sunan an-Nasa'i 4189
کتاب #44: کتاب: بیعت کے احکام و مسائل
21: بَابُ : بَيْعَةِ الْمَمَالِيكِ
باب: غلاموں کی بیعت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: جَاءَ عَبْدٌ , فَبَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْهِجْرَةِ , وَلَا يَشْعُرُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ عَبْدٌ , فَجَاءَ سَيِّدُهُ يُرِيدُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بِعْنِيهِ" , فَاشْتَرَاهُ بِعَبْدَيْنِ أَسْوَدَيْنِ، ثُمَّ لَمْ يُبَايِعْ أَحَدًا , حَتَّى يَسْأَلَهُ: " أَعَبْدٌ هُوَ؟".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک غلام نے آ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت پر بیعت کی ، آپ یہ نہیں سمجھ رہے تھے کہ یہ غلام ہے ، پھر اس کا مالک اسے ڈھونڈتے ہوئے آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے میرے ہاتھ بیچ دو “ ، چنانچہ آپ نے اسے دو کالے غلاموں کے بدلے خرید لیا ، پھر آپ نے کسی سے بیعت نہیں لی یہاں تک کہ آپ اس سے معلوم کر لیتے کہ وہ غلام تو نہیں ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4189]
💡 وضاحت:
۱؎: غلام اپنے مالک کا تابع ہے، تو وہ کیسے ہجرت کر سکتا ہے اس لیے آپ غلاموں سے بیعت نہیں لیتے تھے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المساقاة 23 (1602)، سنن ابی داود/البیوع 17 (3358مختصرا)، سنن الترمذی/البیوع 22 (1239)، السیر 36 (1596)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 41 (2896)، (تحفة الأشراف: 2904)، یأتي عند المؤلف في البیوع 66 (برقم4625) (صحیح)