سنن النسائي حدیث نمبر: 4187
Sunan an-Nasa'i 4187
کتاب #44: کتاب: بیعت کے احکام و مسائل
19: بَابُ : بَيْعَةِ مَنْ بِهِ عَاهَةٌ
باب: کسی بھیانک بیماری والے کی بیعت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ آلِ الشَّرِيدِ، يُقَالُ لَهُ عَمْرٌو , عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ رَجُلٌ مَجْذُومٌ , فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ارْجِعْ فَقَدْ بَايَعْتُكَ".
شرید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ثقیف کے وفد میں ایک کوڑھی تھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہلا بھیجا کہ ” لوٹ جاؤ ، میں نے تمہاری بیعت لے لی “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4187]
💡 وضاحت:
۱؎: چونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اچھی طرح سے یہ جانتے تھے کہ اس کے آنے سے لوگ گھن محسوس کریں گے اور ممکن ہے کہ بعض کمزور ایمان والے وہم میں بھی مبتلا ہو جائیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہلا بھیجا کہ تمہیں یہاں آنے کی ضرورت نہیں میں نے تمہاری بیعت لے لی۔ خود آپ کو گھن نہیں آئی، نہ آپ کو کسی وہم میں مبتلا ہونے کا ڈر تھا، آپ سے بڑھ کر صاحب ایمان کون ہو سکتا ہے؟۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/السلام 36 (2231)، سنن ابن ماجہ/الطب 44 (3544)، (تحفة الأشراف: 4837)، مسند احمد (4/389، 390) (صحیح)