سنن النسائي حدیث نمبر: 4127
Sunan an-Nasa'i 4127
کتاب #42: کتاب: قتل و خون ریزی کے احکام و مسائل
29: بَابُ : تَحْرِيمِ الْقَتْلِ
باب: قتل کی حرمت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ فَضَالَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا، فَقَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ، فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا الْقَاتِلُ , فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ؟، قَالَ: " إِنَّهُ أَرَادَ قَتْلَ صَاحِبِهِ".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جب دو مسلمان اپنی تلواروں کے ساتھ آمنے سامنے ہوں پھر ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کر دے تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں ہوں گے “ ، انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! یہ تو قاتل ہے آخر مقتول کا کیا معاملہ ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” اس نے بھی اپنے ساتھی کے قتل کا ارادہ کیا تھا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4127]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الإیمان 22 (31)، الدیات 2 (6875)، الفتن 10 (7082)، صحیح مسلم/الفتن 4 (2888)، سنن ابی داود/الفتن 5 (4268، 4269)، (تحفة الأشراف: 11655)، مسند احمد (5/43، 51) (صحیح)