سنن النسائي حدیث نمبر: 4125
Sunan an-Nasa'i 4125
کتاب #42: کتاب: قتل و خون ریزی کے احکام و مسائل
29: بَابُ : تَحْرِيمِ الْقَتْلِ
باب: قتل کی حرمت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمِصِّيصِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفٌ عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا يُرِيدُ قَتْلَ صَاحِبِهِ , فَهُمَا فِي النَّارِ". قِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ؟، قَالَ: " إِنَّهُ كَانَ حَرِيصًا عَلَى قَتْلِ صَاحِبِهِ".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب دو مسلمان اپنی تلواروں کے ساتھ آمنے سامنے ہوں ، ان میں سے ہر ایک دوسرے کو قتل کرنا چاہتا ہو ، تو وہ دونوں جہنم میں ہوں گے “ ۔ آپ سے عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! یہ تو قاتل ہے لیکن مقتول کا کیا معاملہ ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” وہ بھی تو اپنے ساتھی کے قتل کا حریص اور خواہشمند تھا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4125]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 11666)، مسند احمد 5/46، 51، یأتي فیما یلي: 4126 (صحیح)