📖 سنن النسائي • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن النسائي

Sunan an-Nasa'i (سُنَنُ النَّسَائِيِّ (المجتبى))
📁 کتاب: قتل و خون ریزی کے احکام و مسائل (كتاب تحريم الدم) 🏷️ باب: باب: مرتد کی توبہ کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن النسائي حدیث نمبر: 4074 Sunan an-Nasa'i 4074
کتاب #42: کتاب: قتل و خون ریزی کے احکام و مسائل
15: بَابُ : تَوْبَةِ الْمُرْتَدِّ
باب: مرتد کی توبہ کا بیان۔
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " فِي سُورَةِ النَّحْلِ: مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِهِ إِلا مَنْ أُكْرِهَ إِلَى قَوْلِهِ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ سورة النحل آية 106 , فَنُسِخَ وَاسْتَثْنَى مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ هَاجَرُوا مِنْ بَعْدِ مَا فُتِنُوا ثُمَّ جَاهَدُوا وَصَبَرُوا إِنَّ رَبَّكَ مِنْ بَعْدِهَا لَغَفُورٌ رَحِيمٌ سورة النحل آية 110 , وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ الَّذِي كَانَ عَلَى مِصْرَ، كَانَ يَكْتُبُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَزَلَّهُ الشَّيْطَانُ , فَلَحِقَ بِالْكُفَّارِ، فَأَمَرَ بِهِ، أَنْ يُقْتَلَ يَوْمَ الْفَتْحِ، فَاسْتَجَارَ لَهُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، فَأَجَارَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے سورۃ النحل کی اس آیت : «من كفر باللہ من بعد إيمانه إلا من أكره‏» ” جس نے ایمان لانے کے بعد اللہ کا انکار کیا سوائے اس کے جسے مجبور کیا گیا ہو … ان کے لیے درد ناک عذاب ہے “ ( النحل : ۱۰۶ ) کے بارے میں کہا : یہ منسوخ ہو گئی اور اس سے مستثنیٰ یہ لوگ ہوئے ، پھر یہ آیت پڑھی : «ثم إن ربك للذين هاجروا من بعد ما فتنوا ثم جاهدوا وصبروا إن ربك من بعدها لغفور رحيم» ” پھر جو لوگ فتنے میں پڑ جانے کے بعد ہجرت کر کے آئے ، جہاد کیا اور صبر کیا تو تیرا رب بخشنے والا مہربان ہے “ ( النحل : ۱۱۰ ) اور کہا : وہ عبداللہ بن سعد بن ابی سرح تھے جو ( عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ) مصر کے والی ہوئے ، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منشی تھے ، انہیں شیطان نے بہکایا تو وہ کفار سے مل گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن حکم دیا کہ انہیں قتل کر دیا جائے تو ان کے لیے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے پناہ طلب کی ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پناہ دے دی ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4074]
💡 وضاحت:
۱؎: باب کی دونوں حدیثوں کا خلاصہ یہ ہے کہ مرتد اگر توبہ کر لے تو اس کی توبہ قبول ہو گی، ان شاء اللہ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الحدود1(4358)، (تحفة الأشراف: 6252) (صحیح الإسناد)
سنن النسائي • حدیث #4074
4072 4073 4074 4075 4076

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#4073 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَي...
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انصار کا ایک شخص اسلام لایا پھر وہ مرتد ہو گیا اور مشرکین...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ