سنن النسائي حدیث نمبر: 4073
Sunan an-Nasa'i 4073
کتاب #42: کتاب: قتل و خون ریزی کے احکام و مسائل
15: بَابُ : تَوْبَةِ الْمُرْتَدِّ
باب: مرتد کی توبہ کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا دَاوُدُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ أَسْلَمَ، ثُمَّ ارْتَدَّ وَلَحِقَ بِالشِّرْكِ، ثُمَّ تَنَدَّمَ , فَأَرْسَلَ إِلَى قَوْمِهِ سَلُوا لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٍ؟ فَجَاءَ قَوْمُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: إِنَّ فُلَانًا قَدْ نَدِمَ، وَإِنَّهُ أَمَرَنَا أَنْ نَسْأَلَكَ هَلْ لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ؟ فَنَزَلَتْ: كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ قَوْمًا كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ إِلَى قَوْلِهِ غَفُورٌ رَحِيمٌ سورة آل عمران آية 86 - 89 , فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَأَسْلَمَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انصار کا ایک شخص اسلام لایا پھر وہ مرتد ہو گیا اور مشرکین سے جا ملا ۔ اس کے بعد شرمندہ ہوا تو اپنے قبیلہ کو کہلا بھیجا کہ میرے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھو : کیا میرے لیے توبہ ہے ؟ اس کے قبیلہ کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بولے : فلاں شخص ( اپنے کئے پر ) شرمندہ ہے اور اس نے ہم سے کہا ہے کہ ہم آپ سے پوچھیں : کیا اس کی توبہ ہو سکتی ہے ؟ اس وقت یہ آیت اتری : «كيف يهدي اللہ قوما كفروا بعد إيمانهم» سے «غفور رحيم» تک ” اللہ اس قوم کو کیوں کر ہدایت دے گا جو ایمان لانے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حقانیت کی گواہی دینے اور اپنے پاس روشن دلیلیں آ جانے کے بعد کافر ہوئی ، اللہ تعالیٰ ایسے بے انصاف لوگوں کو راہ راست پر نہیں لاتا ، ان کی تو یہی سزا ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کے تمام فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو ، جس میں یہ ہمیشہ پڑے رہیں گے ، نہ تو ان سے عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ ہی انہیں مہلت دی جائے گی ، مگر وہ لوگ جن ہوں نے اس سے توبہ کر لی اور نیک ہو گئے ، پس بیشک اللہ غفور رحیم ہے “ ( آل عمران : ۸۶-۸۹ ) تو آپ نے اسے بلا بھیجا اور وہ اسلام لے آیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4073]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 1084) (صحیح الإسناد)