سنن النسائي حدیث نمبر: 4047
Sunan an-Nasa'i 4047
کتاب #42: کتاب: قتل و خون ریزی کے احکام و مسائل
9: بَابُ : ذِكْرِ اخْتِلاَفِ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ وَمُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ عَلَى يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ
باب: اس حدیث میں یحییٰ بن سعید سے روایت کرنے میں طلحہ بن مصرف اور معاویہ بن صالح کے اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ: " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَطَّعَ الَّذِينَ سَرَقُوا لِقَاحَهُ , وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ بِالنَّارِ، عَاتَبَهُ اللَّهُ فِي ذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ سورة المائدة آية 33 الْآيَةَ كُلَّهَا".
ابوالزناد سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کے ہاتھ کاٹے جن ہوں نے آپ کی اونٹنیاں چرائی تھیں اور آگ سے ان کی آنکھوں کو پھوڑا تو اللہ تعالیٰ نے اس سلسلے میں آپ کی سرزنش کی ۱؎ ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ مکمل آیت اتاری «إنما جزاء الذين يحاربون اللہ ورسوله» ” ان لوگوں کا بدلہ جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں … الخ “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4047]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ اثر ضعیف ہے اور اس میں یہ بات کہ ابوالزناد نے اللہ تعالیٰ کی جانب سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق عتاب کی جو بات کہی ہے غیر مناسب ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے ساتھ وہی سلوک اپنایا جو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چروا ہوں کے ساتھ اپنایا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے سلوک پر صاد کیا، صرف آنکھیں پھوڑنے کی ممانعت کر دی۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (4370) السند مرسل وابن عجلان عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 351
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (ضعیف الإسناد) (یہ روایت معضل ہے، سند سے ابو الزناد کے بعد دو آدمی ساقط ہیں)