سنن النسائي حدیث نمبر: 4040
Sunan an-Nasa'i 4040
کتاب #42: کتاب: قتل و خون ریزی کے احکام و مسائل
9: بَابُ : ذِكْرِ اخْتِلاَفِ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ وَمُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ عَلَى يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ
باب: اس حدیث میں یحییٰ بن سعید سے روایت کرنے میں طلحہ بن مصرف اور معاویہ بن صالح کے اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " قَدِمَ أَعْرَابٌ مِنْ عُرَيْنَةَ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمُوا، فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ حَتَّى اصْفَرَّتْ أَلْوَانُهُمْ , وَعَظُمَتْ بُطُونُهُمْ، " فَبَعَثَ بِهِمْ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى لِقَاحٍ لَهُ فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا حَتَّى صَحُّوا"، فَقَتَلُوا رُعَاتَهَا، وَاسْتَاقُوا الْإِبِلَ، " فَبَعَثَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَلَبِهِمْ، فَأُتِيَ بِهِمْ فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ. وَسَمَّرَ أَعْيُنَهُمْ". قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عَبْدُ الْمَلِكِ لِأَنَسٍ وَهُوَ يُحَدِّثُهُ هَذَا الْحَدِيثَ: بِكُفْرٍ أَوْ بِذَنْبٍ؟ قَالَ: بِكُفْرٍ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ اعرابی ( دیہاتی ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اسلام قبول کیا ، انہیں مدینے کی آب و ہوا راس نہیں آئی ، یہاں تک کہ ان کے رنگ پیلے پڑ گئے ، ان کے پیٹ پھول گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دودھ والی اونٹنیوں کے پاس بھیجا اور انہیں حکم دیا کہ وہ ان کا دودھ اور پیشاب پئیں ، یہاں تک کہ جب وہ ٹھیک ہو گئے تو انہوں نے ان چرواہوں کو قتل کر دیا اور اونٹوں کو ہانک لے گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاش میں کچھ لوگ بھیجے ، انہیں لایا گیا تو آپ نے ان کے ہاتھ اور پیر کاٹ دیے ، اور ان کی آنکھوں میں گرم سلائی پھیر کر ان کو پھوڑ دیا ۔ امیر المؤمنین عبدالملک نے انس رضی اللہ عنہ سے کہا ( وہ ان سے یہ حدیث بیان کر رہے تھے ) : کفر ( ردت ) کی وجہ سے یا جرم کی وجہ سے ( ان کے ساتھ ایسا کیا گیا ) ؟ انہوں نے کہا : کفر ( ردت ) کی وجہ سے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4040]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 307 (صحیح الإسناد)