سنن النسائي حدیث نمبر: 4036
Sunan an-Nasa'i 4036
کتاب #42: کتاب: قتل و خون ریزی کے احکام و مسائل
8: بَابُ : ذِكْرِ اخْتِلاَفِ النَّاقِلِينَ لِخَبَرِ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِيهِ
باب: حمید کی انس بن مالک رضی الله عنہ سے مروی حدیث میں ناقلین کے اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: أَسْلَمَ أُنَاسٌ مِنْ عُرَيْنَةَ فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ , فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ خَرَجْتُمْ إِلَى ذَوْدٍ لَنَا فَشَرِبْتُمْ مِنْ أَلْبَانِهَا"، قَالَ حُمَيْدٌ، وَقَالَ قَتَادَةُ: عَنْ أَنَسٍ: " وَأَبْوَالِهَا" , فَفَعَلُوا , فَلَمَّا صَحُّوا كَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ , وَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤْمِنًا , وَاسْتَاقُوا ذَوْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَهَرَبُوا مُحَارِبِينَ , فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَتَى بِهِمْ , فَأُخِذُوا فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ، وَأَرْجُلَهُمْ , وَسَمَّرَ أَعْيُنَهُمْ , وَتَرَكَهُمْ فِي الْحَرَّةِ حَتَّى مَاتُوا.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ اسلام لائے تو انہیں مدینے کی آب و ہوا راس نہیں آئی ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” اگر تم لوگ ہمارے اونٹوں میں جاتے اور ان کا دودھ پیتے ( تو اچھا ہوتا ) “ ، ( حمید کہتے ہیں : قتادہ نے انس سے «البانہا» ( دودھ کے ) بجائے «ابو الہا» ( پیشاب ) روایت کی ہے ۔ ) انہوں نے ایسا ہی کیا ، پھر جب وہ ٹھیک ہو گئے تو اسلام لانے کے بعد کافر و مرتد ہو گئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلمان چرواہے کو قتل کر دیا ، اور آپ کے اونٹوں کو ہانک لے گئے اور جنگجو بن کر نکلے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں گرفتار کرنے کے لیے کچھ لوگ بھیجے ، چنانچہ وہ سب گرفتار کر لیے گئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے ، ان کی آنکھیں گرم سلائی سے پھوڑ دیں ، اور انہیں حرہ ( مدینے کے پاس پتھریلی زمین ) میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ سب مر گئے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4036]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 757)، مسند احمد (3/107، 205) (صحیح)