سنن النسائي حدیث نمبر: 4035
Sunan an-Nasa'i 4035
کتاب #42: کتاب: قتل و خون ریزی کے احکام و مسائل
8: بَابُ : ذِكْرِ اخْتِلاَفِ النَّاقِلِينَ لِخَبَرِ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِيهِ
باب: حمید کی انس بن مالک رضی الله عنہ سے مروی حدیث میں ناقلین کے اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَدِمَ نَاسٌ مِنْ عُرَيْنَةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ، فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ خَرَجْتُمْ إِلَى ذَوْدِنَا فَشَرِبْتُمْ مِنْ أَلْبَانِهَا". قَالَ: وَقَالَ قَتَادَةُ: " وَأَبْوَالِهَا" , فَخَرَجُوا إِلَى ذَوْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا صَحُّوا كَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ، وَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤْمِنًا، وَاسْتَاقُوا ذَوْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَانْطَلَقُوا مُحَارِبِينَ , فَأَرْسَلَ فِي طَلَبِهِمْ، فَأُخِذُوا فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَّرَ أَعْيُنَهُمْ.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، انہیں مدینے کی آب و ہوا راس نہیں آئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” اگر تم جاتے اور ہمارے اونٹوں کا دودھ پیتے ( تو اچھا ہوتا ) “ ( قتادہ نے «البانہا» ( دودھ ) کے بجائے «ابو الہا» ( پیشاب ) کہا ہے ) چنانچہ وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کے پاس گئے جب اچھے ہو گئے تو اسلام لانے کے بعد کافر ( مرتد ) ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلمان چرواہے کو قتل کر دیا اور آپ کے اونٹ ہانک لے گئے اور جنگجو ( لڑنے والے ) بن کر گئے ۔ آپ نے ان کی تلاش میں کچھ لوگوں کو بھیجا تو وہ گرفتار کر لیے گئے ، آپ نے ان کے ہاتھ پیر کاٹ دیے اور ان کی آنکھوں کو گرم سلائی سے پھوڑ دیا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4035]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 651) (صحیح)