سنن النسائي حدیث نمبر: 4023
Sunan an-Nasa'i 4023
کتاب #42: کتاب: قتل و خون ریزی کے احکام و مسائل
5: بَابُ : ذِكْرِ مَا يَحِلُّ بِهِ دَمُ الْمُسْلِمِ
باب: جن گناہوں اور جرائم کی وجہ سے کسی مسلمان کا خون حلال ہو جاتا ہے ان کا بیان۔
أَخْبَرَنَا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ غَالِبٍ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: " يَا عَمَّارُ , أَمَا إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنَّهُ , لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ إِلَّا ثَلَاثَةٌ: النَّفْسُ بِالنَّفْسِ، أَوْ رَجُلٌ زَنَى بَعْدَ مَا أُحْصِنَ"، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : عمار ! کیا تمہیں نہیں معلوم کہ کسی مسلمان شخص کا خون حلال نہیں سوائے تین صورت کے : جان کے بدلے جان ، یا وہ شخص جس نے شادی کے بعد زنا کیا ہو ، اور پھر انہوں نے آگے ( یہی ) حدیث بیان کی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4023]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد موقوف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، أبو إسحاق عنعن. وحديث أبى داود (الأصل: 4353) و سنده صحيح والنسائي الآتي (الأصل: 4053) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 350
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)