سنن النسائي حدیث نمبر: 4022
Sunan an-Nasa'i 4022
کتاب #42: کتاب: قتل و خون ریزی کے احکام و مسائل
5: بَابُ : ذِكْرِ مَا يَحِلُّ بِهِ دَمُ الْمُسْلِمِ
باب: جن گناہوں اور جرائم کی وجہ سے کسی مسلمان کا خون حلال ہو جاتا ہے ان کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ غَالِبٍ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا رَجُلٌ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانِهِ، أَوْ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ، أَوِ النَّفْسُ بِالنَّفْسِ". وَقَّفَهُ زُهَيْرٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی مسلمان شخص کا خون حلال نہیں سوائے اس شخص کے جس نے شادی کے بعد زنا کیا یا اسلام لانے کے بعد کفر کیا یا جان کے بدلے جان لینا ہو “ ۔ اسے زہیر نے موقوفاً روایت کیا ہے ( ان کی روایت آگے آ رہی ہے ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4022]
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 17422)، مسند احمد (6/58، 181، 205، 214)، ویأتي عند المؤلف برقم 4023 (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے)