سنن النسائي حدیث نمبر: 3969
Sunan an-Nasa'i 3969
کتاب #41: کتاب: مزارعت (بٹائی پر زمین دینے) کے احکام و مسائل
بَابُ : 6 - باب شَرِكَةِ الأَبْدَانِ
باب: صنعت و کاریگری میں شرکت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاق، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: " اشْتَرَكْتُ أَنَا وَعَمَّارٌ وَسَعْدٌ يَوْمَ بَدْرٍ فَجَاءَ سَعْدٌ بِأَسِيرَيْنِ وَلَمْ أَجِئْ أَنَا وَلَا عَمَّارٌ بِشَيْءٍ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں عمار اور سعد رضی اللہ عنہما بدر کی لڑائی کے روز شریک ( کار ) ہوئے تو سعد دو قیدی لے کر آئے ، نہ میں کچھ لایا اور نہ ہی عمار کچھ لے کر آئے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3969]
💡 وضاحت:
۱؎: شرکت ابدان یہ ہے کہ دو آدمی کسی کام کے انجام دینے میں اس طرح شریکوں کہ ان دونوں کی محنت سے اس کام میں جو بھی فائدہ حاصل ہو گا اس میں وہ دونوں برابر برابر کے حصہ دار ہوں گے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (3388) ابن ماجه (2288) الحديث الآتي (4701) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 350
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/البیوع 30 (3388)، سنن ابن ماجہ/التجارات 63 (2288)، (تحفة الأشراف: 9616)، ویأتی عند المؤلف فی البیوع 103 (برقم: 4701) (ضعیف) (اس کے راوی ’’ابو اسحاق سبیعی‘‘ مختلط ہو گئے تھے، اور ”ابو عبیدہ“ کا اپنے باپ ”ابن مسعود رضی الله عنہ‘‘ سے سماع نہیں ہے)