سنن النسائي حدیث نمبر: 3921
Sunan an-Nasa'i 3921
کتاب #41: کتاب: مزارعت (بٹائی پر زمین دینے) کے احکام و مسائل
2: بَابُ : ذِكْرِ الأَحَادِيثِ الْمُخْتَلِفَةِ فِي النَّهْىِ عَنْ كِرَاءِ الأَرْضِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَاخْتِلاَفِ أَلْفَاظِ النَّاقِلِينَ لِلْخَبَرِ
باب: زمین کو تہائی یا چوتھائی پر بٹائی دینے کی ممانعت کے سلسلے کی مختلف احادیث اور ان کے رواۃ کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ طَارِقٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ , وَالْمُزَابَنَةِ، وَقَالَ: " إِنَّمَا يَزْرَعُ ثَلَاثَةٌ رَجُلٌ لَهُ أَرْضٌ فَهُوَ يَزْرَعُهَا أَوْ رَجُلٌ مُنِحَ أَرْضًا فَهُوَ يَزْرَعُ مَا مُنِحَ، أَوْ رَجُلٌ اسْتَكْرَى أَرْضًا بِذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ". مَيَّزَهُ إِسْرَائِيلُ، عَنْ طَارِقٍ، فَأَرْسَلَ الْكَلَامَ الْأَوَّلَ , وَجَعَلَ الْأَخِيرَ مِنْ قَوْلِ سَعِيدٍ.
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے ۔ ۱؎ اور فرمایا : ” کھیتی تین طرح کے لوگ کرتے ہیں : ایک وہ شخص جس کی اپنی ذاتی زمین ہو تو وہ اس میں کھیتی کرتا ہے ، دوسرا وہ شخص جسے عاریۃً ( بلامعاوضہ ) زمین دے دی گئی ہو تو وہ دی ہوئی زمین میں کھیتی کرتا ہے ۔ تیسرا وہ شخص جس نے سونا چاندی ( نقد ) دے کر زمین کرایہ پر لی ہو “ ۔ اس حدیث کو اسرائیل نے طارق سے روایت کرتے ہوئے دونوں ٹکڑوں کو الگ الگ کر دیا ہے ، پہلے ٹکڑے ۲؎ کو مرسلاً ( بطور کلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) روایت کیا اور دوسرے ٹکڑے کو سعید بن مسیب کا قول بتایا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3921]
💡 وضاحت:
۱؎: محاقلہ سے مراد یہاں مزارعہ (بٹائی) پر دینا ہے اور مزابنہ سے مراد: درخت پر لگے کھجور یا انگور کا اندازہ کر کے اسے خشک کھجور یا انگور کے بدلے بیچنا ہے۔ ۲؎: پہلی بات سے مراد «نہیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن المحاقلۃ والمزابنۃ» ہے اور آخری بات سے مراد «إنما یزرع ثلاثۃ، الیٰ آخرہ» ہے۔ یعنی: پہلی روایت میں آخری ٹکڑے کو درج کر کے اس کو مرفوع بنا دیا ہے، حالانکہ یہ سعید بن مسیب کا اپنا قول ہے، اسرائیل کی روایت جسے انہوں نے طارق سے روایت کیا ہے، دونوں ٹکڑوں کو چھانٹ کر الگ الگ کر دیا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/البیوع 32 (3400)، سنن ابن ماجہ/الرہون 7 (2449)، (تحفة الأشراف: 3557)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 3922-3924) (صحیح)